روزے رکھنے کے جسمانی فوائد

 روزے رکھنے کے جسمانی فوائد 

صحت بہت بڑی نعمت ہے، کون ہے جو صحت مند رہنا نہیں چاہتا؟ یقیناً آپ بھی چاہیں گے کہ میں بھی صحت مند رہوں۔ آئیے، میں آپ کو کچھ ٹپس دیتا ہوں، اگر اللہ پاک نے چاہا تو ہم صحت مند رہیں گے۔ رسول اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا خوب فرمایا: روزہ رکھو، صحت پا جاؤ گے۔ یعنی روزے میں صحت ہے۔ روزہ ایک بڑی نعمت ہے، جو مسلمان روزہ رکھتا ہے تو روزہ اس کے معدے کو ٹھیک کر دیتا ہے۔ جدید میڈیکل سائنس کا یہ ماننا ہے کہ روزہ طبی اعتبار سے بہت بڑا کرشمہ ہے۔ روزے کی برکت سے معدہ اور نظام انہظام یعنی ڈائجسٹو سسٹم تو بالکل ٹھیک ہوتا ہی ہے۔


ساتھ ساتھ روزے کی برکت سے اور بھی بہت سی بیماریوں سے اللہ پاک نجات دے دیتا ہے۔ یہاں تک کہ ایسے مریض جو بہت عرصے سے بیمار ہوں اور بیماری ان کے جسم میں جڑ پکڑ چکی ہو، اگر ایسے مریض روزہ رکھیں تو ان کی بیماری میں کافی حد تک بہتری آ جاتی ہے۔ تحقیق کے مطابق چونکہ روزے کی حالت میں سحری سے افطار تک کچھ کھایا پیا نہیں جاتا، تو یہ عمل دل کے لیے بہت فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے دل کو آرام ملتا ہے، دل کے جو ٹشوز ہیں ان پر دباؤ کم پڑتا ہے۔ یوں دل کے لیے خون کو پورے جسم میں پہنچانا آسان ہو جاتا ہے۔


خون کو صاف کرنے میں کم از کم طاقت لگتی ہے، اس طرح دل کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ روزے کا سب سے اہم اثر پورے جسم کی خون کی نالیوں پر نظر آتا ہے۔ جی ہاں، کئی بار خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں یا کمزور پڑ جاتی ہیں، جس کی وجہ سے خون نالیوں میں آسانی سے گردش نہیں کر پاتا۔ جب ہم روزہ رکھتے ہیں نا تو سحری سے لے کر افطار تک کچھ کھاتے پیتے نہیں ہیں، تو خون میں موجود غذائی اجزاء مکمل طور پر ہل جاتے ہیں۔ اس طرح خون کی نالیوں کی دیواروں پر چربی اور کولیسٹرول وغیرہ جمع نہیں ہوتے اور خون کی نالیاں سکڑتی نہیں۔


اور کمزور ہونے سے محفوظ رہتی ہیں۔ اب روزے کی حالت میں ہمارے گردوں کو بھی کافی آرام مل جاتا ہے، یوں گردوں کی طاقت باہر رہتی ہے۔ روزے کی حالت میں آنتوں کو بھی آرام اور طاقت ملتی ہے۔ ہماری آنتوں کے نیچے جو نظام ہوتا ہے، جسے امیون سسٹم کہتے ہیں، آپ نے کرونا اور کووڈ کے دنوں میں کافی سنا ہوگا۔ تو یہ جو امیون سسٹم کا بنیادی حصہ ہوتا ہے، جسے اندرونی جال کہا جاتا ہے، روزوں کے دوران معدے اور آنتوں میں صحت مند نمی بنتی ہے جس سے آنتوں کو نئی تازگی اور طاقت ملتی ہے۔ اس طرح روزہ دار کی خوراک...


روزے اور وضو کے جو فائدے ہیں وہ یہ کہ ہاضمے کی نالیوں کے امراض سے بچاؤ ہوتا ہے۔ دماغ میں خون کی گردش کا ایک بہترین توازن قائم ہوتا ہے، جس سے دماغ صحت مند رہتا ہے اور ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے۔ اب چلتے ہیں جگر کی طرف، ہمارا جگر پندرہ طرح کے کام انجام دیتا ہے۔ اگر ہم تھوڑا سا بھی کچھ کھائیں، یہاں تک کہ سو گرام خوراک بھی میدے تک پہنچے تو ہمارا پورا نظام ہاضمہ اپنا کام شروع کر دیتا ہے اور جگر پوری طرح مصروف ہو جاتا ہے۔


مسلسل مصروف رہنے کی وجہ سے جگر تھکن کا شکار ہو جاتا ہے اور اپنا کام پوری طرح انجام نہیں دے پاتا۔ جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو اس کی برکت سے جگر کو بھی آرام کا موقع مل جاتا ہے۔ روزے کی حالت میں جگر توانائی پہنچانے والی غذاؤں کو جمع کرنے سے بڑی حد تک آزاد ہو جاتا ہے اور اپنی توانائی، قوت مدافعت یعنی امیون سسٹم کو مضبوط کرنے لگتا ہے جس سے ہماری قوت مدافعت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اسی طرح روزہ شکر کی سطح، کولیسٹرول کی سطح اور بلڈ پریشر کو بیلنس میں رکھتا ہے یعنی ان میں توازن لاتا ہے اور اس کی وجہ سے دل...


دل کے دورے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے، روزے کی برکت سے وزن کم ہوتا ہے، روزے کی برکت سے بے اولاد عورتوں کے ہاں اولاد ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ روزے کی برکت سے انسان برے خیالات سے بچتا ہے، ذہن صاف رہتا ہے اور نیکی نصیب ہوتی ہے۔ روزے کی برکت سے انسولین کے استعمال میں کمی آتی ہے۔ روزے کی برکت سے جلد اور چھاتی کے کینسر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور روزے کی برکت سے پانی کی بیماریوں میں بہتری آتی ہے۔ یا رسول اللہ ﷺ، دیکھو روزے کے فوائد، ہمیں روزے رکھنی چاہئیں۔ رجب کا پیارا مہینہ، شعبان کا پیارا مہینہ اور پھر ماہِ رمضان۔


فرض کرو روزے روز رکھو، ضرور رکھو خاص کر ماہ رمضان کے روزے ہرگز مت چھوڑو۔ یہ روزہ رکھو اللہ کی رضا کے لیے رکھنا ہے۔ اس کے بے شمار فائدے ہیں جو میں نے تمہیں بتا دیے ہیں۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سورت اخلاص کے پڑھنے کے اجر و ثواب

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے سبق اموز اقوال